نئی دہلی، 27 مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا انتخابات میں بھلے ہی سیاسی پارٹیاں ذاتی مساوات بٹھا کر اپنے امیدوار اتار رہے ہوں، کسانوں کی باتیں ہوں یا پلوامہ حملے کے بعد کئے گئے فضائی حملے کی لیکن انتخابات میں ہر بار سب سے بڑا مسئلہ روزگار ہی ہے،ملک کی عوام کو سب سے پہلے روٹی، کپڑا اور مکان ہی چاہئے۔ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (اے ڈی آر) نے ایک قومی سروے کیا ہے۔یہ سروے 31 مسائل پر ملک کی 534 لوک سبھا سیٹوں کے 2.73 لاکھ ووٹروں پر کیا گیا ہے۔سروے اکتوبر 2018 سے دسمبر 2018 کے درمیان کیا گیا تھا۔سروے میں یہ واضح ہے کہ ملک کے دیہی علاقے ہو یا شہری، دونوں ہی جگہوں پر ملازمت سب سے بڑا مسئلہ ہے،سب سے بڑی مانگ ہے،نوکری کا سب سے زیادہ مطالبہ شہری علاقوں اور او بی سی طبقہ کی ہے۔شہروں کے 51.60فیصد ووٹر اور او بی سی طبقہ کے 50.32فیصد ووٹروں کے درمیان سب سے زیادہ مطالبہ نوکری ہے۔23 سے 40 عمر والے 47.49فیصد ووٹر کو روزگار کی ضرورت ہے۔سروے میں شامل 534 لوک سبھا سیٹ کے ووٹروں کی دوسری سب سے بڑی مانگ ہے صحیح صحت اور اچھی صحت کی خدمات،ملک کے 34.60فیصد ووٹر اسے بے حد ضروری مانتے ہیں۔شہری علاقوں کے 39.41فیصد لوگوں نے اسے بے حد ضروری مانا ہے۔30.50فیصد ووٹر صاف پینے کے پانی کو تیسرا سب سے بڑا مسئلہ مانتے ہیں،سب سے بڑی دقت شہری علاقوں میں دیکھنے کو مل رہی ہے،اسی لیے 35.03فیصد شہری ووٹروں نے اسے بڑا مسئلہ مانا ہے،اگرچہ، دیہی علاقوں کے 28.05فیصد ووٹروں نے ہی اس پر اتفاق کیا ہے۔خواتین اور مرد ووٹر روزی، صحت اور پانی کے مسئلے پر تقریبا ایک برابر سوچتے ہیں،ان تینوں اہم مسائل پر ایک برابر سوچنے والی خواتین اور مرد ووٹروں کی تعداد میں زیادہ فرق نہیں ہے،روزگار کے لئے 48.05فیصد مرد اور 46.61فیصد خواتین ایک اسی سوچتی ہیں،بہترین صحت کی خدمات کے لئے خواتین کی تعداد مردوں کے آگے ہیں،یہ ہے ۔ 35.29فیصد خواتین اور 34.29فیصد مرد،صاف پانی کے لئے بھی ایسی ہی حالت ہے،پانی کے لئے 31.69فیصد خواتین اور 30.91فیصد مرد ووٹروں نے ووٹ کیا۔